قرآن کے عملی نکات

قرآن مجید کے نزول  کی ابتدا لیلتہ القدر  21 رمضان کے مطابق 10 اگست 610 ہجری بروز پیر ہوئی – اس وقت  رسول اکرم (صلی اللّہ علیہ وسلم) کی عمر مبارک  قمری حساب سے 40 سال  6 ماہ 52 دن تھی-
وحی کی ابتداء زمانے میں رسول اکرم(صلی اللّہ علیہ وسلم) اس خد‎شہ سے کہ کہیں وحی کے الفاظ بھول نہ جائیں حضرت جبرائیل کے ساتھ وحی کے الفاظ دھرانے لگتے –جس پر اللّہ تعالی نے ہدایت فرمائی:
"اے نبی(صلی اللّہ علیہ وسلم) وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لئیے زبان کو حرکت نہیں دو- ساتھ یہ بھی اطمینان  دلایا اس قرآن کو یاد کرانا ، پڑھانا  ہماری ذمداری ہے- لہذا جب ہم اسے پڑھ رہے ہوں تو اس کی قرات غور سے سنتے رہو-"
(سورۃ قیامۃ آیت 17)
"یہاں  اللّہ کی کتاب قرآن کے نازل ہونے کے بارے میں پتہ چلتا ہے"
اب یہ دیکتھے ہیں کے قرآن جو ہمارے نبی(صلی اللّہ علیہ وسلم) پر نازل کیا گیا ہے اس کا مقصد کیا تھاکہ آیا ثواب کی خاطر پڑھنا ہے یا اس کا کوئی اور مقصد ہے-
تو یہاں خود قرآن کہہ رہا ہے-
سورۃ القمر آیت نمبر 1-22 تک
"ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیۓ آسان کردیا ہے-"

قرآن کریم تمھارے پاس پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماری کی شفا اور مومنوں کے لیۓ ہدایت اور رحمت ہیں-(یونس  57 ) پس قرآن سے فائدہ اٹھا  
اصلاح  نفس کا اہتمام کرو-

Comments